نئی دہلی ، 21 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) انتخابی ماحول کے درمیان پلوامہ حملے کا مسئلہ ایک بار پھر بحث کے مرکز میں آ گیا ہے۔سماج وادی پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری رام گوپال یادو نے سی آر پی ایف جوانوں کے قافلے پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کو سازش قرار دیتے ہوئے موجودہ حکومت کو گھیرا ہے اور کہا ہے کہ ووٹ کے لئے جوانوں کو مار دیا گیا۔یہاں تک کہ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ جب حکومت بدلے گی تو اس معاملے کی جانچ کی جائے گی، تب بڑے بڑے لوگ اس میں پھنسیں گے۔جموں و کشمیر کے پلوامہ میں 14 فروری کو جموں سے سری نگر جا رہے سی آر پی ایف جوانوں کا 70 سے زیادہ گاڑیوں کاقافلہ جا رہا تھا۔اسی دوران دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی نے ٹکر ماری تھی، جس میں 40 جوان شہید ہوئے تھے،حملے کے بعد ترنمول کانگریس صدر ممتا بنرجی نے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی پر جوانوں کے خون پر سیاست کرنے کا الزام لگایا تھا،جبکہ کچھ لیڈروں نے بڑے افسران کے نام پر بھی سوال اٹھائے تھے،اب سماجوادی پارٹی لیڈر نے صاف الفاظ میں پلوامہ حملے کو سازش قرار دیتے ہوئے اس کی جانچ کرنے کی بات کہی ہے۔
ہولی ملن پروگرام کے دوران انہوں نے کہاکہ پیراملٹري فورس حکومت سے ناخوش ہے،ووٹ کے لئے جوان مار دئے گئے، جموں سرینگر کے درمیان چیکنگ نہیں کی تھی،جوانوں کو سادہ بس میں بھیجا گیا، یہ سازش تھی۔ اس سے آگے انہوں نے کہا کہ اس سازش کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہنا چاہتا ہوں لیکن جب حکومت بدلے گی، اس معاملے کی جانچ ہوگی اور بڑے بڑے لوگ پھنسیں گے۔رام گوپال یادو سے پہلے مغربی بنگال سے بھی مودی حکومت کے خلاف ایسی آواز اٹھ چکی ہے۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت پر شہید جوانوں کے خون سے سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کو پلوامہ حملے کے بارے میں پہلے سے اطلاع تھی، لیکن پھر بھی جوانوں کو سڑک کی جگہ ہوائی راستے سے نہیں بھیجا گیا۔ممتا کے اس سنگین الزام کے بعد اب رام گوپال یادو نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ مئی میں جب حکومت بدلے گی کو اس کیس کی تفتیش کی جائے گی اور اس معاملے میں بڑے بڑے لوگ پھنسیں گے۔